Saturday, February 4, 2023
ہوماہم خبریںعمران خان ڈٹ جانے والا لیڈر، مگر

عمران خان ڈٹ جانے والا لیڈر، مگر

عمران خان سے لاکھ اختلافات سہی مگر یہ بات تو تسلیم کرنی پڑے گی کہ وہ جو کہتے ہیں وہ کر دکھاتے ہیں۔ چاہے اس کے پیچھے کوئی بھی وجہ ہو، یہ دوسری جماعتوں کی کمزوریاں ہوں، جن سے وہ فائدہ اٹھا جاتے ہیں یا اب تک وہ اسٹیبلشمنٹ کے لاڈلے ہیں اور ان کا لاڈلا پن ختم ہونے میں نہیں آرہا۔

جیسا کہا جارہا ہے کہ ان کے پاس ایسی کون سی جادو کی چھڑی ہے کہ ادارے بھی ان کی مرضی کے خلاف نہیں جاسکتے اور عدالتیں بھی ان سے کوئی سوال نہیں پوچھتیں۔ وہ جو چاہے کرلیتے ہیں، ان کےلیے کوئی کام قانونی نہیں اور کوئی کام غیر قانونی نہیں، بلکہ ان کےلیے قوانین بھی تبدیل ہوجاتے ہیں اور عدالتیں بھی انہیں سپورٹ کرنے کےلیے اپنے ہی فیصلوں کے خلاف چلی جاتی ہیں۔ جیسے عدم اعتماد کی ووٹنگ میں ہوا تھا کہ جو فیصلہ وفاق میں ہوا پنجاب میں اس کے خلاف فیصلہ دے کر پی ٹی آئی کی حکومت کو بحال کردیا۔ اس طرح پی ٹی آئی کے خلاف لاڈلے پن کے بیانیے کو مزید تقویت ملی۔

بہرحال کچھ بھی ہو، عمران خان جو کہتے ہیں وہی کرتے ہیں، چاہے اس سے سب کو کتنا ہی اختلاف کیوں نہ ہو۔ حتیٰ کہ ان کی اپنی جماعت کے رہنما بھی ان سے اختلاف کررہے ہوتے ہیں مگر وہ وہی کرکے دکھاتے ہیں جو انہوں نے کہہ دیا ہوتا ہے۔ وہ کسی بھی تنقید یا اختلاف کی پروا نہیں کرتے۔ مخالفین اسے ضد کہیں یا انا، تکبر کہیں یا خوداعتمادی، وہ کسی کی پروا کیے بغیر وہی سب کچھ کرتے چلے جارہے ہیں جو ان کے جی میں آتا ہے۔ اس میں وہ ملک کے نفع و نقصان کی بھی کوئی پروا نہیں کرتے، صرف اپنی مرضی کرتے ہیں اور کیوں نہ کریں جب انہیں معلوم ہے کہ پارٹی میں ان کے علاوہ کوئی اور تو ہے نہیں۔ وہی سب کچھ ہیں، پارٹی ان ہی کی ہے۔

اگر آسان الفاظ میں کہیں تو وہی پی ٹی آئی ہیں۔ ان کے بغیر پی ٹی آئی کا کوئی وجود ہی نہیں۔ وہ جو چاہیں گے پارٹی میں وہی ہوگا، جو نہیں چاہیں گے وہ نہیں ہوگا، چاہے اس کےلیے کوئی کتنا ہی زور کیوں نہ لگا لے۔ ان کی مرضی کے بغیر پی ٹی آئی میں کوئی پتّہ تک نہیں ہل سکتا۔ وہ جسے چاہیں گے وہ پارٹی میں رہے گا، جس سے ان کا جی بھر جائے گا تو اس کی تمام تر خدمات، اس کی اے ٹی ایم، اس کے جہاز، سب کچھ فراموش کرکے اسے پارٹی سے نکال پھینکا جائے گا۔ ماضی میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جن میں عمران خان کی محض ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر ان کے دیرینہ رفقا، تحریک انصاف کے اہم عہدیداران اور اہم ترین خدام کو نکال باہر کیا۔ بلکہ بہت سے پی ٹی آئی کے بانیان کو بھی پارٹی سے نکال دیا گیا۔

یہ تو حقیقت ہے کہ عمران خان کے بغیر تحریک انصاف کچھ نہیں۔ ان کے علاوہ کوئی بھی ایسا دوسرا لیڈر جماعت میں نہیں ہے جو ان کی جگہ لے سکے، نہ ہی عوام کسی کو اس قدر چاہتے ہیں جتنا کہ عمران خان کو۔ یہ حقیقت ہے کہ عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ اور اداروں کی سپورٹ حاصل رہی ہے، جس کی وجہ سے وہ اس مقام تک پہنچے ہیں اور ملک اس حال تک۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ عوام میں دل و جان سے ان کے چاہنے والوں کی کمی نہیں ہے۔ لاکھوں لوگ ایسے ہیں جو اب بھی عمران خان کو نہایت عزیز رکھتے ہیں کیونکہ عوام عام طور پر حقائق نہیں جانتے اور وہ ظاہری نعرے اور دعوے دیکھ کر کسی کو چاہنے لگتے ہیں۔ لہٰذا عمران خان کے چاہنے والوں کی بھی کمی نہیں۔ عوام اب بھی بڑی تعداد میں ان کے ساتھ ہیں اور عمران خان کسی بھی حال میں ہوں یا کچھ بھی کریں، عوام تحریک انصاف کو ہی ووٹ دیتے ہیں۔ وہ عمران خان کی محبت میں یہ بھی نہیں دیکھتے کہ جس شخص کو ہم ووٹ دے رہے ہیں وہ کیسا ہے؟ بس پی ٹی آئی کا ٹکٹ ہی کافی ہے۔ عمران خان کے علاوہ جماعت میں کوئی دوسرا ایسا نہیں جو ان کے قریب تر بھی ہو۔

عمران خان نے اپنا کوئی جانشین بھی نہیں بنایا اور انہوں نے اپنی ذات کی حد تک موروثی سیاست نہیں کی۔ اگرچہ ان کی جماعت میں اس کی مثالیں ملتی ہیں۔ لیکن وہ اپنے بچوں میں سے کسی کو سیاست میں نہیں لائے، نہ ہی ان کے بچے پاکستان میں ہیں۔ ان کا جب کوئی جانشین بھی نہیں ہے جو ان کی جگہ لے سکے تو ان کے بعد تحریک انصاف لاوارث سی ہوجائے گی، جس کا کوئی خاص رہنما نہیں ہوگا۔ اگرچہ جماعت ختم تو نہیں ہوجائے گی کیونکہ اتنی بڑی عوامی جماعتیں ایسے لمحوں میں ختم نہیں ہوجایا کرتیں لیکن جماعتوں کےلیے مشکلات بہت زیادہ پیدا ہوجاتی ہیں اور ان کی مقبولیت ختم ہوجاتی ہے، پھر وہ سہاروں پر ہی تھوڑی بہت چلتی ہیں۔ یہ جماعت تو پہلے ہی سہاروں پر چلتی آرہی ہے، جیسے وفاق میں سہارا کھینچا گیا تو دھڑام سے گرگئی، اسی طرح پنجاب میں بھی سہاروں کو قائم رکھنے کےلیے ہر ممکن کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔

بہرحال بات وہیں آجاتی ہے کہ عمران خان اپنی مقبولیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جو جی میں آئے کر گزرتے ہیں اور ایک بار جو فیصلہ کرلیں اس پر ڈٹ جاتے ہیں۔ جیسے پنجاب اسمبلی کی تحلیل کا فیصلہ انہوں نے کرلیا تو پرویزالہٰی جو پنجاب میں ان کی حکومت قائم رکھنے کا واحد ذریعہ ہیں، ان کی بھی نہیں چلنے دی اور اسمبلی کی تحلیل پر ان سے دستخط کرا کے ہی دم لیا۔ جس سے معلوم ہوا وہ ایک ایسے شخص ہیں کہ جس بات کی ٹھان لیں وہ کر گزرتے ہیں، چاہے اس سے ان کا ذاتی نقصان ہو یا ملک کا، وہ کسی بات کی پروا نہیں کرتے۔

کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ قومی مفادات کےلیے اس طرح ڈٹ کر فیصلے کرتے تو آج ملکی حالات بہت مختلف ہوتے۔

مذید پڑھیں

نگران وزیر اعلی پنجاب عمران خان کے تجویز کردہ نام کون

مزید پڑھیں

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

مقبول ترین