Saturday, February 4, 2023
ہومبلاگعورتوں سے نفرت آن لائن اتنی مقبول کیوں ہے؟

عورتوں سے نفرت آن لائن اتنی مقبول کیوں ہے؟

رومانیہ میں انسانی سمگلنگ، منظم جرائم اور ریپ کے الزام میں گرفتار ہونے والے متنازع برطانوی نژاد امریکی آن لائن انفلوئنسر آندرے ٹیٹ نے خود کو ’خواتینکا قطعی مخالف‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ’ممکن ہی نہیں کہ آپ حقیقی دنیا میں ہوں اور جنسی تفریق نہ کریں‘۔

لیکن 36 سالہ سابق کک باکسر، جنھوں نے آن لائن دنیا بھر میں شہرت حاصل کی، کسی نہ کسی شkل میں انٹرنیٹ پر خواتین مخالف خیالات کا اظہار کرنے والے واحد شخص نہیں ہیں۔ تاہم بہت سے دوسرے لوگوں کے برعکس ٹیٹ کے سوشل میڈیا پر لاکھوں مداح جمع ہیں۔

وہ با اثر افراد کے ایک گروپ میں سے ہیں جنھوں نے ایک ایسے طرز زندگی کی وکالت کرکے مقبولیت یا بدنامی حاصل کی ہے جس میں خواتین کو مردوں کے ماتحت ہونے تک محدود کردیا جاتا ہے۔

توجہ کا حصول

الفاظ سخت اور واضح ہوسکتے ہیں لیکن یہ خیالات نوجوان نسل میں مقبولیت حاصل کرتے دکھائی دیے رہے ہیں۔

یہی بات والدین، اساتذہ اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو ٹیٹ کے بعض بیانات سے بڑھ کر پریشان کررہی ہے۔

بی بی سی ورلڈ سروس کے ریڈیو پروگرام ’دی ریئل سٹوری‘ سے بات کرتے ہوئے نتاشا والٹر کا کہنا تھا کہ ’مجھے یہ بات انتہائی تشویش ناک لگتی ہے کہ بہت سے نوجوان اس قسم کی شخصیت کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ’ایک انتہائی پریشان کن بات یہ ہے کہ کچھ حالیہ سروے ظاہر کرتے ہیں کہ نوجوان مرد اب عمر رسیدہ مردوں کے مقابلے میں زیادہ جنسی رویے رکھتے ہیں۔‘

تھنک ٹینک بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے سینئر فیلو اور کتاب’بوائز اینڈ مین: وائے دی ماڈرن مین سفر وائی اٹس امپورٹنٹ اینڈ واٹ ٹو ڈو اباؤٹ اٹ‘کے مصنف رچرڈ ریوز کا ماننا ہے کہ ٹیٹ کی مقبولیت ان بہت سے پلیٹ فارمز کے الگوردھم کے پر بھی منحصر ہے جن پر ان کی ویڈیوز شائع ہوتی تھیں۔

یوٹیوب، فیس بک، انسٹا گرام اور ٹک ٹاک سمیت متعدد سوشل میڈیا کمپنیوں نے ان پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور ٹک ٹاک کا کہنا ہے کہ ’خواتین سے نفرت ایک قابلِ نفرت نظریہ ہے جسے برداشت نہیں کیا جائے گا‘۔

ٹوئٹرنے ٹیٹ پر اس وقت پابندی عائد کر دی گئی تھی کہ جب انھوں نے کہا کہ ’خواتین کوجنسی استحصال کا نشانہ بننے کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے‘۔ اس کے بعد انھیں بحال کر دیا گیا۔

رچرڈ ریوز کا کہنا تھا کہ ’ انھوں نے جان لیا تھا کہ یہ اہم ہے کہ لوگ ان سے نفرت کریں اتنا ہی جتنا آن لائن پیارضروری ہے۔ نفرت کرنے والے مداحوں کو بھی سامنے لاتے ہیں۔‘

’لیکن شائقین اور فالوورز میں یک فرق ہے۔ ان کے مواد کو دیکھنے والے لوگوں کی اکثریت کچھ چیزوں کو پاگلپن قرار دے گی۔‘

وسیع پیمانے پر عورتوں سے نفرت

اور ان کے خیالات کی حوصلہ افزائی کا باعث بن رہے ہیں۔

دی ریئل سٹوری کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران صحافی اور مصنفہ صوفیہ سمتھ گیلر نے کہا کہ وہ یقینی طور پر خواتین مخالف مواد فراہم کرنے والے واحد شخص نہیں ہیں۔ وہ آن لائن کمیونٹیز میں جنسیت کا مطالعہ کرتی ہی۔

ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مواد کی بہتات ہے۔

’ہم جانتے ہیں کہ کووڈ 19 وبا کے بعد سے خواتین مخالف آن لائن مواد میں اضافہ ہوا ہے، لیکن جب سے انٹرنیٹ شروع ہوا ہے تب سے یہ جاری ہے۔

سمتھ گیلر نے کہا ’اینڈریو ٹیٹ جیسے بہت سے لوگ سالوں سے موجود ہیں‘

لیکن ایسا کیوں ہے؟ کینٹ یونیورسٹی میں سوشیالوجی کے ایمریٹس پروفیسر فرینک فریڈی نے بی بی سی کو بتایا کہ آن لائن سیاق و سباق کو حقیقی دنیا سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ ’آن لائن تجربہ لوگوں کے آف لائن تجربے سے گہرا تعلق رکھتا ہے اور ہم جن چیزوں پر بات کر رہے ہیں ان میں سے بہت سی سوشل میڈیا پہلے سے موجود ہیں اور ان میں سے بہت سے آف لائن دنیا میں پھل پھول رہے ہیں۔

پروفیسر فریڈی سمجھتے ہیں کہ اس طرح کے خیالات ’لوگوں کی اظہار رائے کی خواہش اور ان پر توجہ دیے جانے کی خواہش سے پیدا ہوتے ہیں۔‘

ان کے مطابق توجہ اور شناخت کی یہ خواہش آن لائن پوری ہو جاتی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ’ یقینا آن لائن بہت زیادہ خواتین مخالف مواد موجود ہے کہ اس سے نمٹنے کی کوشش کرنا بہت مشکل محسوس ہوسکتا ہے، لیکن کم از کم اسے بڑھایا نہیں جانا چاہیے۔

مذید پڑھیں

وہ ویڈیو کال میں برہنہ ہونے کا مطالبہ کرتا تھ

مزید پڑھیں

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

مقبول ترین