Saturday, February 4, 2023
ہوماہم خبریںجنرل آصف غفور نے پی ٹی آئی کو کیوں دھمکی دی ہے؟؟

جنرل آصف غفور نے پی ٹی آئی کو کیوں دھمکی دی ہے؟؟

بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور سے ان کے حالیہ دورے کے موقع پر ملاقات کرنے والوں میں حق دو تحریک کے ایک معمر نومنتخب کونسلر کاکا سلیمان بھی شامل تھے۔

اس ملاقات کے حوالے سے وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں انھوں نے یہ الزام عائد کیا کہ ’ہمیں ملاقات کے دوران کور کمانڈر نے دھمکی دی کہ آئندہ اگر آپ لوگوں نے ہڑتال کی اور دھرنا دیا تو آپ لوگوں کو جیل میں ڈال دوں گا‘۔

حق دو تحریک کے دودیگر کونسلروں نے بھی فون پر بتایا کہ ’کورکمانڈر نے بتایا کہ کسی اور مقام پر آپ لوگ جتنا دھرنا اور احتجاج کرتے ہو کرو لیکن اگر پورٹ کے باہر دھرنا دیا تو میں سب کو جیل میں ڈال دوں گا۔‘

تاہم سرکاری حکام نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کور کمانڈر جذبہ خیرسگالی کے تحت گوادر گئے تھے اور وہاں لوگوں سے ملاقات کرکے ان کو یقین دہانی کرائی تھی کہ ان کے جو بھی جائز مسائل ہیں ان کو حل کیا جائے گا۔

گوادر میں حالات کشیدہ ہونے کے بعد کسی اعلیٰ فوجی افسر کی جانب سے پہلا اہم رابطہ

گوادر میں پورٹ کے قریب حق دو تحریک کے دھرنے پر 26 دسمبر کو علی الصبح پولیس نے کریک ڈاﺅن کے علاوہ گرفتاریاں کی تھیں۔

اس کریک ڈاﺅن کے خلاف گوادر میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا تھا جس کے باعث پانچ روز تک گوادر شہر کے علاوہ دیگر شہروں میں کاروباری مراکز بند ہوئے تھے۔ اسی طرح اہم شاہراہیں بھی کئی روز تک بند ہوئی تھیں۔

حکومت نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے دیگر اقدامات کے علاوہ کئی روز تک موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس کو بھی بند کیا تھا جبکہ گوادر میں 26 دسمبر سے ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 بھی نافذ ہے جس میں ہر قسم کی اجتماع پر پابندی ہے۔

Chairmain PTI “Imran khan”

پولیس کی جانب سے حق دو تحریک کے سربراہ، رہنماﺅں اور کارکنوں کی بڑی تعداد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے تھے۔

اگرچہ پولیس تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان کو گرفتار نہیں کرسکی تھی لیکن وہ جمعے کو خود گرفتاری دینے کے لیے گوادر میں عدالت میں پیش ہوئے تھے لیکن پولیس نے کمرہ عدالت میں داخل ہونے سے پہلے ان کو گرفتار کیا تھا۔

کور کمانڈر سے پہلے روز کے ملاقات میں کونسلروں کی بڑی تعداد موجود نہیں تھی

بلوچستان میں گذشتہ سال جو بلدیاتی انتخابات ہوئے اس میں گوادر شہر سے حق دو تحریک کے کونسلروں کی اکثریت کامیاب ہوئی تھی۔ اسی طرح گوادر کے دیگر علاقوں میں بھی حق دو تحریک کے کونسلروں کی بڑی تعداد نے کامیابی حاصل کی تھی۔

کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور کے دورہ گوادر کے موقع پر جمعرات کو زندگی مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے ان سے ملاقات کی تھی۔

حق دو تحریک کے نومنتخب کونسلر اصغر طیب نے بتایا کہ پہلے روز کے ملاقات میں کورکمانڈر نے یہ تجویز دی تھی گوادر کے لوگوں کے جو مسائل ہیں ان کے حوالے سے ایک کمیٹی بنائی جائے جو کہ ڈپٹی کمشنر سے ملاقاتیں کرے اور مسائل کے حل کے لیے اقدامات کرے۔

’اس کمیٹی کے حوالے سے یہ تجویز بھی دی گئی تھی کہ ہر پندرہ روز بعد اس کمیٹی کا سربراہ تبدیل ہو‘۔

اصغرطیب کا کہنا تھا کہ اس دوران ایک سیاسی رہنما نے بتایا تھا کہ جب عوام کے منتخب کونسلر ہیں تودیگر لوگوں پر مشتمل کمیٹی بنانے کی بجائے ان کونسلروں کو موقع دیا جائے۔

انھوں نے کہا کہ چونکہ کونسلروں کی اکثریت کا تعلق حق دو تحریک سے ہے جس کے باعث ان کے خلاف مقدمات تھے اس لیے مقدمات کے ہوتے ہوئے ان کے لیے وہاں جانا ممکن نہیں تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ چونکہ کونسلر وہاں موجود نہیں تھے تو کور کمانڈر نے کونسلروں سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تھی جس پر ڈپٹی کمشنر گوادر نے مولانا لیاقت سے گزارش کی تھی کہ وہ کونسلروں کا کونڈر کمانڈر سے ملاقات کا اہتمام کرائیں۔

ان کا کہنا تھا اس نشست میں مولانا لیاقت نے بتایا تھا کہ حق دو تحریک کے کونسلروں کے خلاف مقدمات ہیں وہ جب آئیں گے تو ان کو گرفتار کیا جائے گا جس پر انھیں یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ کونسلروں کو گرفتار نہیں کیا جائے گا۔

سرکاری حکام کا اس حوالے سے کیا کہنا ہے ؟

حق دو تحریک کے کونسلروں کی گرفتاری کی دھمکی کے حوالے سے لگائے جانے والے الزام سے متعلق فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے آئی ایس پی آر کے حکام سے فون پر رابطہ کرنے کی بارہا کوشش کی گئی لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا تاہم حکومت بلوچستان کی ترجمان فرح عظم شاہ نے اسے غلط اور بے بنیاد الزام قرار دیا۔

فون پر را بطہ کرنے پر ان کا کہنا تھا کہ کورکمانڈر لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور جذبہ خیر سگالی کے طور پر گوادر گئے تھے اور وہاں زندگی کے مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے افراد سے ملاقاتیں کی تھی تاکہ ان کی بات سن کر ان کے مسائل کا خوش اسلوبی سے حل نکالا جاسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ جہاں کوئی احتجاج ہوتا ہے تو فوجی حکام کی جانب سے یہ کہا جاتا ہے کہ لوگوں کے ساتھ نرمی کے ساتھ پیش آنا چائیے اور ان کے مسائل کو حل کیا جانا چاہیے ۔

انھوں نے کہا کہ اسی جذبہ خیرسگالی کے طورپر سکیورٹی فورسز کے اہلکار بلوچستان میں لوگوں کے مسائل کے حل میں پیش پیش ہیں۔

انھوں نے کہا کہ حکومت نے پہلے بھی گوادر کے لوگوں کے مسائل کے حل کے لیے اقدامات کیے ہیں اورآئندہ بھی کرے گی۔

حکومت بلوچستان کے ترجمان نے کہا کہ ہمارے سکیورٹی فورسز نہ صرف بلوچستان میں قیام امن کے لیے قربانیاں دے رہی ہیں بلکہ ان کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے اقدامات کررہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے دور دراز کے علاقوں میں جہاں کوئی جا نہیں سکتا ہے وہاں سکیورٹی فورسز کے اہلکار نہ صرف ہمارے بچوں کو تعلیم دینے کے کام کررہے ہیں بلکہ لوگوں کوصاف پانی کی فراہمی تک کے لیے بھی اقدامات کررہے ہیں۔

مذید پڑھیں

نگران وزیر اعلی پنجاب عمران خان کے تجویز کردہ نام کون

مزید پڑھیں

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

مقبول ترین